تعلیمی نظام میں کردار سازی: سیرت طیبہ کا نقطہ نظرایک تحقیقی و تجزیاتی جائزہ
CHARACTER BUILDING IN THE EDUCATIONAL SYSTEM: AN ANALYTICAL AND RESEARCH-BASED STUDY IN THE LIGHT OF THE SEERAH OF THE PROPHET (PBUH)
DOI:
https://doi.org/10.63878/aaj1545Abstract
آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ تعلیم نے بہت ترقی کر لی ہے۔ لوگ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پروفیسر بن رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں میں ایمانداری، دیانت داری، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ، اور فرض شناسی جیسی خوبیاں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ اسکولوں میں بچے استاد کی بے عزتی کرتے ہیں، امتحان میں نقل کرتے ہیں، ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں۔ بڑے ہو کر یہی بچے ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، دوسروں کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں۔
یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام نے "کردار سازی" کو بھلا دیا ہے۔ ہم بچوں کے دماغ میں معلومات تو بھر دیتے ہیں، لیکن ان کے دل اور اخلاق کو سنوارنا بھول جاتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے۔ اس سلسلے میں سب سے بہترین مثال ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے (الاحزاب: 21)۔
اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم سیرت طیبہ سے کیا سبق لے سکتے ہیں اور کیسے اپنے تعلیمی نظام کو کردار سازی کے لیے بہتر بنا سکتے ہیں۔
Downloads
Downloads
Published
Issue
Section
License

This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-NoDerivatives 4.0 International License.































