عالم اسلام کے معاشرتی واقتصادی بحران اور ان کا حل: سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ
A RESEARCH ANALYSIS OF THE SOCIAL AND ECONOMIC CRISES OF THE MUSLIM WORLD AND THEIR SOLUTIONS IN THE LIGHT OF THE SEERAH OF THE PROPHET MUHAMMAD (ﷺ)
DOI:
https://doi.org/10.63878/aaj1149Abstract
عالم اسلام آج ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سماجی اور معاشی بحران امت مسلمہ کی ترقی ،وقاراور وحدت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں درپیش مشکلات اور بعض حلقوں میں انتہا پسندی کے رجحانات نے معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔اسی طرح، غربت اور بے روزگاری جیسے معاشی مسائل، زکوة و صدقات کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت، اور عالمی مالیاتی دباؤ نے اسلامی دنیا کی خودمختاری اور ترقی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کا تقاضا کیا ہے۔آج کی عالمی دنیا میں جہاں تیز رفتار اور عالمی مقابلہ سازی کا دور ہے امت مسلمہ کی سماجی اور معاشی پسماندگی ایک لمحہ فکریہ ہے اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی فلاح وبہبود کو اپنے اصولوں کا مرکز قرار دیتا ہے ۔تاریخ میں جب امت مسلمہ نے ان اصولوں کو اپنا طرز حیات بنایا تو علم معیشت ،سیاست اور سماجی تنظیم کے میدانوں میں دنیا کی قیادت سنبھالی تا ہم عصر حاضر میں عالم اسلام کو متعدد سماجی اور معاشی مسائل نے گھیر لیا ہے جنہوں نے نہ صرف ترقی کے عمل کو روک دیا ہے بلکہ امت مسلمہ کی عالمی حیثیت کو بھی متاثر کیا ہے ۔
Downloads
Downloads
Published
Issue
Section
License

This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-NoDerivatives 4.0 International License.































